بلاول بھٹو کا نواز شریف کے بیانیئے سے اختلاف، جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں، موجودہ یا ریٹائرڈ جرنیلوں کا نام لینے سے دفاعی اداروں کا وقار مجرو ح ہوتا ہے

کراچی (آئی این پی)پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں ۔ہفتہ کوکراچی میں باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مکمل اور حقیقی جمہوریت ملے، مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم کا جلسہ ہو یا اپوزیشن کا، موجودہ یا ریٹائرڈ جرنیلوں کا نام لینے سے دفاعی اداروں کا وقار مجرو ح ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم اسٹیبشلمنٹ کا نام لیتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ یہ صرف آج کا نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ ہے ہمیں آمریت ملی یا کنٹرولڈ جمہوریت۔چیئرمین پیپلز پارٹی کہا کہ ‘ہم ایسا نہیں چاہتے کہ عدلیہ یا ملٹری بیوروکریسی پر الزام لگے لیکن کیا کریں جب فوج کو پولنگ اسٹیشن پر کھڑا کردیا جائے تو۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیراعظم عمران خان ہر تقریر میں کہتے ہیں کہ یہ والا میرے ساتھ ہے، وہ والا میرے ساتھ ہے، ہم سب ایک پیج پر ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ‘عمران خان خود دفاعی اداروں کو سیاسی حربے کے طور استعمال کرتے ہیں تو پھر ادارتی وفار کو دھچکا لگتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنا کام کرے اور فوج پولنگ اسٹیشن کا نہیں بلکہ ووٹرز کا تحفظ کرے جیسے وہ دلیری سے سرحد پر دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے سیاستدانوں، عدلیہ، پارلیمنٹ اور فوج کو بھی اپنا اپنا کام کرنا ہوگا۔علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے پی ڈی ایم تشکیل پا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا کٹھ پتلی راج قبول ہے یا ہمیں جمہوریت چاہیے کیونکہ کٹھ پتلی وزیراعظم ملک نہیں چلا سکتا۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان عدلیہ کو ایسے چلنا چاہتے ہیں جیسا وہ اپنی ٹائیگر فورس کو چلاتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے عوام عدلیہ کی طرف انصاف کی امید کے ساتھ دیکھتے ہیں۔۔۔۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں