طیبہ تشدد کیس، سابق جج اور اہلیہ کو سزا، ضمانت پر رہا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے طیبہ تشدد کیس میں سابق جج راجہ خرم علی خان اور انکی اہلیہ کوایک سال قید کی سزا سناتے ہوئے پچاس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے، راجہ خرم اور ان کی اہلیہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا فیصلے کے فوری بعد راجہ خرم اور ان کی اہلیہ نے ضمانت کی درخواست دائر کی جسے منظور کرتے ہوئے انہیں پچاس ہزار کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ ایک ہفتے کے اندر فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرم راجہ خرم علی خان اور اس کی اہلیہ ماہین ظفر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 328 اے کے تحت سزا سنا ئی، تحریری فیصلے کے مطابق ثبوت اور شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرموں نے جان بوجھ کر طیبہ کے معاملے میں غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا،جبکہ استغاثہ نے 328 اے کی حد تک بغیر کسی شک و شبہ اپنا کیس ثابت کیاراجہ خرم علی خان اور ماہین ظفر بچی کی دیکھ بھال کے مکمل ذمہ دار تھے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا پر خبروں کا کیس پر کوئی اثر نہیں ہےخرم علی خان پر بچی کو غائب کرنے کا الزام ثابت نہیں کیا جاسکا،اس جرم میں عدالت بری کرتی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئےگواہوں میں گیارہ سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھے۔۔۔



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں